ق.ی.ا.م.ت کے دن آنسوؤں کی قیمت

Ansoo

امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے حضرت سعد بن بلال رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت نقل کی ہے: وقال سعد بن بلال: یومر یوم القیامة بإخراج رجلین من النار، فیقول اللہ تبارک وتعالی ذلک بما قدّمت أیدیکما وما أنا بظلام للعبید ، ویأمر بردّہما إلی النار، فیعدو أحدہما حتی یفتحمہا، ویتلکأ الآخر، فیوٴمر بردہما، ویسألہما عن فعلہما، فیقول الذي عدا إلی النار: قد حذّرت من وبال المعصیة فلم أکن لاتعرّض لسخطک ثانیة، ویقول الذي یتلکأ حسن ظنّي بک کان یشعرني أن لا تردّني إلیہما ما أخرجتني منہا، فیأمر بہما إلی الجنة (إحیاء علوم الدین للإمام الغزالي: ۴/ ۵۳۰، ط: کریاطہ فوتر سماراغ)حضرت سعد بن بلال فرماتے ہیں

کہ ق.ی.ام.ت کے دن دو شخصوں کو جہنم سے نکالنے کا حکم ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرمائیں گے: کہ تمھارا جہنم میں داخل ہونا تمھاری بداعمالی کی وجہ سے تھا اور میں تو کسی بندے پ ادن ظلم بھی نہیں کرتا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کو جہنم میں جانے کا حکم دے دیں گے، تو ان دونوں میں سے ایک کا حال تو یہ ہوگاکہ وہ تیزی سے جہنم کی طرف دوڑکر اس میں گھس جائے گا،۔اور دوسرا شخص واپس جانے میں ہچکچائے گا، پھر اللہ تعالیٰ دونوں کو واپس بلاکر ان سے ان کے فعل سے متعلق دریافت کریں گے، تو ان میں سے جو شخص جہنم کی طرف تیزی سے بھاگا تھا ، وہ کہے گا

کہ میں نے آپ کی نافرمانی کے خوف سے ایسا کیا کہ کہیں دوبارہ آپ کی ناراضگی کا مستحق نہ ہوجاوٴں، اور دوسرا شخص بولے گا کہ اے ا للہ میں نے تو آب کے ساتھ اچھا گمان رکھتے ہوئے ایسا کیا کہ آپ کی ذات ایسی نہیں ہے کہ جہنم سے نکالنے کے بعد دوبارہ اس میں واپس بھیج دے، پھر اللہ تعالیٰ تو دونوں کو ہی جنت میں بھیج دیں گے۔الملحوظة: اسم الراوی في إحیاء العلوم سعد بن بلالٍ کما رسمت، ولکن لا یوجد في کتب التاریخ بہذا الاسم أي راوٍ، بل توجد ہذہ الروایة باسم بلال بن سعد في کتب آخر، وبلال تابعیّ قاص أبوہ صحابی ولقي النبي صلی اللہ علیہ وسلم․ یعنی احیاء العلوم میں راوی سعد ابن بلال ہیں جب حلیة الاولیاء میں بلال ابن سعد ہے

اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔نیز یہ روایت متداول کتب احادیث میں نہیں مل سکی۔’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : میں روز قیامت (تمام) اولاد آدم کا قائد ہوں گا اور مجھے (اس پر) فخر نہیں، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور کوئی فخر نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر تمام انبیاء کرام اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ اور میں پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور کوئی فخر نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگ تین بار خوفزدہ ہوں گے پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کریں گے۔

پھر مکمل حدیث بیان کی یہاں تک کہ فرمایا : پھر لوگ میرے پاس آئیں گے (اور) میں ان کے ساتھ (ان کی شفاعت کے لیے) چلوں گا۔ ابن جدعان (راوی) کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گویا کہ میں اب بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں جنت کے دروازے کی زنجیر کھٹکھٹاؤں گا، پوچھا جائے گا : کون؟ جواب دیا جائے گا : حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔چنانچہ وہ میرے لیے دروازہ کھولیں گے اور مرحبا کہیں گے۔ میں (بارگاہ الہی میں) سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو اللہ تعالی مجھ پر اپنی حمد وثناء کا کچھ حصہ الہام فرمائے گا۔ مجھے کہا جائے گا: سر اٹھایئے، مانگیں عطا کیا جائے گا۔

شفاعت کیجئے، قبول کی جائے گی، اور کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:) یہی وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: ‘یقینا آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)۔’

اپنی رائے کا اظہار کریں