اللہ کھلاتا ہے تو ہم کھاتے ہیں، اگر ہم نہ کھانا چاہیں تو اللہ تعالیٰ نہیں کھلا سکتا

اللہ کھلاتا ہے

پی ایف سی نیوز ! کہتے ہیں ایک ماں بیٹے میں مناظرہ چل رہا تھا۔ ماں کا موقف تھا کہ اللہ کھلاتا ہے تو ہم کھاتے ہیں۔ بیٹے کا کہنا تھا ہم کھاتے ہیں، اگر ہم نہ کھانا چاہیں تو اللہ نہیں کھلا سکتا۔ اس مناظرے کے دوران ماں نے بیٹے کے آگے کھانا رکھدیا تو بیٹے نے کہا، چلیں میں یہ آج رات والا کھانا نہیں کھا رہا، اللہ کھلا کر دکھا دے۔

ماں بیٹے کے پیچھے پڑ گئی کہ پاگل نہ بن کھانا کھا لے اور بیٹے نے ضد پکڑ لی کہ میں نے نہیں کھانا اللہ کھلا کر دکھائے۔ ماں بیٹے کو بھوکا کہاں دیکھ پاتی ہے، اس نے اصرار شروع کیا تو بیٹا گھر سے نکال کر گاؤں کے قبرستان میں جا کے سو گیا۔ ماں نے ایک زبردست قسم کا خوشبودار حلوہ بنایا اور جا کر بیٹے سے کچھ فاصلے سے کچھ فاصلے پر ایک قبر پر اس خیال سے رکھ آئی کہ رات کو بھوک سے جاگ گیا تو کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا اور یہ کھا لیگا۔ رات کے آخری پہر قبرستان میں ڈاکو آگئے جو اس اس گاؤں کو لوٹنے کی غرض سے پہنچے تھے۔ وہ قبرستان میں رک کر سردار سے آخری ہدایات لے رہے تھے کہ حلوے کی مہک نے سردار کو متوجہ کر لیا۔ قبرستان کی تلاشی لی گئی تو حلوہ اور وہ لڑکا دونوں برآمد ہوئے۔

سردار نے حلوہ کھانا چاہا تو “سانبھا” نے کہا، سردار ! مجھے لگتا ہے اس حلوے میں زہر ملا کر رکھا گیا تھا تاکہ ہم کھا کر مر جائیں اور یہ لڑکا جاسوسی کے لئے موجود تھا کہ ہمارے انجام کی خبر جا کر گاؤں والوں کو دے سکے۔ سردار نے سانبھا کی عقلمندی کی داد دی اور لڑکے سے کہا چل بچے حلوہ کھا ! لڑکا تو ضد کئے بیٹھا تھا کہ آج رات کچھ نہیں کھائیگا، اس نے سختی سے انکار کیا تو سردار کا شک یقین میں بدل گیا اور اس نے گن تان لی۔ لڑکے نے سر پر منڈلاتی موت دیکھی تو پوری پلیٹ چٹ کر گیا۔ ڈاکو کچھ دیر تک اسکے مرنے کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہ مرا۔ ایک بار پھر سانبھا نے ہی گتھی سلجھائی اور کہا، سردار ! سلو پوائزن لگتا ہے۔ کنفیوز ڈاکو لڑکے کو قبرستان میں چھوڑ کر لوٹ گئے۔ فجر کی آذان کے ساتھ لڑکا خالی پلیٹ ہاتھ میں لئے منہ لٹکائے گھر میں داخل ہوا تو ماں نے پو چھا، بیٹا کیا ہوا ؟

لڑکا بولا۔ ماں لمبا قصہ ہے، مجھے نیند آرہی ہے، بس خلاصہ یہ ہے کہ ہم نہ بھی کھانا چاہیں تو اللہ کھلادیتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تمہیں اپنے اوپر مشکلات اور پریشانیاں نظر آئیں تو

ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا کہیں بیٹھے تھے تو ایک شخص حضرت علی کے پاس آیا، اور عرض کیا یا علی میں نے سنا ہے آپ کی جو تلو-ار ہے ذوالفقار یہ پہاڑ کو بھی چیر دیتی ہے، کیا یہ بات صیحح ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں صیحح سنا ہے، اس نے کہا یاعلی آپ اپنی تلو-ار دیں گے میں آزما کر دیکھنا چاہتا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلو-ار دے دی۔ اس شخص نے تلو-ار زور سے دیوار پر ماری لیکن کچھ نہیں ہوا، تو کہنے لگا یاعلی آپ تو کہہ رہے تھے۔ پہاڑ توڑ دیتی ہے لیکن دیوار نہیں ٹوٹی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسکراتے ہوئے کہا: میں نے تمہیں اپنی تلو-ار دی ہے اپنا ہاتھ نہیں، ذوالفقار تبھی ذوالفقار ہے جب علی کے ہاتھ میں ہو! ورنہ یہ صرف لوہے کا ٹکڑا ہے اور کچھ نہیں۔

ایک دن امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ ، مسجد کے دروازے پر اپنے خچر سے اترے، تو آپ نے اپنا خچر حفاظت کے خیال سے ایک شخص کے حوالے کیا! اور مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ کے جانے کے بعد اس شخص کے دل میں خیانت آگئی، اور اس نے آپ کے خچر کی لگا م نکالی اور فرار ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر جب مسجد سے باہر تشریف لائے، تو آپ کے ہاتھ میں دو درہم تھے، یہ دو درہم آپ خچر کی نگہبانی کرنےوالے شخص کو بطور معاوضہ دینا چاہتے تھے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ خچر بغیر لگا م کے خالی کھڑا ہے، بہرحال آپ بغیر لگام کے خچر پر سوار ہو کر گھر پہنچے اور اپنے غلام کو دو درہم دیے، کہ وہ بازار سے دوسری لگا م خرید لائے۔ غلام بازار گیا، اس نے وہی لگام ایک شخص کے ہاتھ میں دیکھی، پوچھنے پر معلوم ہوا کہا ایک شخص پر لگا م دو درہم میں بیچ گیا ہے، غلام نے اس شخص سے دو درہم میں لگا م لے لی اور واپس آگیا۔ اور آپ کوساری بات بتائی! تو آپ نے فرمایا! بندہ بعض اوقات خود صبر نہ کرنے اورعجلت سے کام لینے کی وجہ سے رزق حلال کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے۔

حالانکہ جو کچھ رب العزت نے اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے اس سے زیادہ اسے نہیں ملتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے عبادت میں دو چیزیں پسند ہیں سرد موسم میں فجر کی نماز اور گرم موسم میں رمضان کے روزے۔ عبادت ایسی کرو جس سے روح کو مزہ آئے کیونکہ جو عبادت دنیا میں مزہ نہ دے وہ آخرت میں کیا جزا دے گی۔ جب گن-اہوں کے باوجود اللہ پاک کی نعمتیں مسلسل ملتی رہتی ہیں تو ہوشیار ہوجانا کے تیرا حساب قریب اور سخت ترین ہے۔ تین چیزیں انسان کو اللہ پاک سے دور کرتی ہیں اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنا، اپنے گن-اہوں کو بھول جانا، اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چھ چیزوں کی شکایت کبھی نہ کرنا! اپنی قسمت کی، اولاد کے سامنے اپنے بڑوں کی، اپنا ذاتی مکان ہوتے ہوئے اس کی تنگی کی، بھول کر بھی اپنے ماں باپ یا استاد کی، غیر کے سامنے اپنے دوست کی، رخصت کرنے کے بعد اپنے مہمان کی.

Leave a Comment