ح۔ی۔ض ختم ہونے کے بعد بیوی شوہر سے غ۔س۔ل کئے بغیر ق۔ر۔ب۔ت کرسکتی ہے یا نہیں؟

بیوی شوہر

آج کا ٹاپک میل اور فی میل سے متعلق ہے۔ کیونکہ فی میل کا تعلق میل سے ضرور ہوتاہے ۔ اور میل کا تعلق فی میل سے ضرور ہوتا ہے۔ اور اس مسئلے کا شکا ر ہر مہینے ہر عورت ہو تی ہے۔ تو آج کا سوال اپنی نوعیت کے لحاظ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ پاکی ، ناپاکی کا مسئلہ ہے ،غسل ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ ہے۔

آئیے چلتے ہیں مسئلے کی طرف ، مسئلے کے حل کی طرف۔مسئلہ کیا ہے ؟ کہ عورت کو حیض بند ہوچکا ہے یعنی حیض کے بعد بغیر غسل کیے کیا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ق.ر.ب.ت کر سکتا ہے؟ یا نہیں ؟ یوں سمجھ لیجیے کہ شوہر نے بیوی سے کہا؛تمہیں حیض تو بند ہوگیا ہے۔ اور تمہیں پاکی والا غ.س.ل بھی کرنا ہے۔ تو کیوں نہ ہم ق.ر.ب.ت کر لیں۔ بیو ی نے کہا کہ ٹھیک ہے کہ پاکی کا غ.س.ل کرنا ہےاس سےپہلے ہم ق.ر.ب.ت کرلیتے ہیں۔ اس کےبعد میں نہا لوگی کیونکہ حیض والا غسل تو مجھے ویسے بھی کرنا ہے۔ تو کیا اس طر ح سے غسل سے پہلے ق.ر.ب.ت کی جاسکتی ہے؟ یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔

دیکھیں کہ عورت کو حیض کتنے دن بعد ہوا ہے۔ کیونکہ حیض کی مدت زیاد ہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اگر دس دن کے بعد بند ہوا ہے۔ تو شوہر بغیر غسل کے بیوی کے ساتھ ق.ر.ب.ت کر سکتا ہے۔ اگر مسئلہ جاننا چاہتے ہیں تو فتویٰ شامیہ میں جلد نمبر دو صفحہ نمبر دو سو چورانوے پر یہ مسئلہ موجود ہے۔ کہ شوہر اپنی بیوی سے قربت کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر عورت کے حیض کی مدت چھ دن کی ہے، سات دن کی ہے، یاپانچ دن کی ہے، یا جتنی بھی مدت ہے اگر اس مدت کے اندر بند ہواتو پھر شریعت کہتی ہے کہ عورت کو چاہیے کہ حیض بند ہونے کے بعد اتنا انتظار کرے جتنا ایک نما ز کا ہوتا ہے۔ یعنی عورت غسل کرکے نماز ادا کرلے۔

اتنی دیر تک انتظار کرے۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جب عورت غسل کرلے اور ایک نماز کا وقت گزر جائے یعنی حیض بند ہونے کے بعداور عورت کے غسل کرنے اور نماز کے گزر جانے کا انتظار کرےتو پھر وہ ق.ر.ب.ت کرسکتی ہے۔ چاہے آپ غسل نہ کریں اورحیض بند ہوگیا ہے۔ اتناوقت گزار لیں جتنا وقت میں ایک عورت غسل کرکے ، کپڑے پہن کر نماز پڑھ سکتی ہے اتنا انتظار کرلے۔ اس کےبعد آپ ق.ر.ب.ت کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات عورتوں کو جلدی حیض بند ہو جاتا ہے۔ سات دن کی عادت تھی اور چاردن کے بعد بند ہوگیا ہے۔ اب اس معاملے میں ش.ر.ی.ع.ت یہ فرماتی ہے

کہ جب تک اس کی عادت کے مطابق خ ون ، مثال کے طورپر اسے چھ دن خ ون آتا ہے اور چار دن بعد بند ہوگیا ہے۔ جب تک اس کی عادت کے مطابق ختم نہ ہو جائے یعنی چھ دن نہ گزر جائیں۔ تب تک ق.ر.ب.ت کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ چار دن بند ہوا اور پھر سے شروع ہوگیا ہے۔ یعنی جتنے دن تک اس کے خ ون کے بند ہونے کی عادت ہے اتنے دن تک انتظار کر نا ہے۔ اور اس کے بعد ق.ر.ب.ت کرسکتا ہے۔ مرد جو ہے وہ عورت سے پاکی والے غسل سے پہلے ق.ر.ب.ت کر سکتا ہے۔ یعنی عورت کو خ ون بند ہوگیا ہے۔ تو اس کا انتظا ر کرنا ہے۔ جتنا غسل کرنے ، کپڑے پہننے اورایک نماز کےوقت تک کا انتظا ر کرنا ہے۔

کہ اتنا وقت گزر گیا ہے۔ اور خ و ن نہیں آیا ہے تو وہ ق.ر.ب.ت کر سکتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں